حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیرِ حوزہ علمیہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں "حضرت ولی عصر (عج) کیمپ" کے افتتاح اور طلاب کی عمامہ پوشی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا: ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ سب عوام کی بدولت ہے۔ یہی عوام تھے جنہوں نے شکوہ مند انقلابِ اسلامی کو وجود بخشا، یہی عوام تھے جو اس ملک کی استقلال اور عظمت پر ڈٹ کر کھڑے رہے اور یہی عوام تھے جنہوں نے طول تاریخ میں دین اسلام کے اہداف کو محفوظ رکھا۔
انہوں نے کہا: انقلابِ اسلامی محض ایک سیاسی انقلاب نہیں، نہ صرف سماجی اور ثقافتی انقلاب ہے بلکہ ایک معرفتی انقلاب ہے جس نے انسانی فکر کی بنیادوں کو مخاطب قرار دیا۔ یہی راز ہے کہ ہمارے خلاف یہ سافٹ، مرکب اور پیچیدہ جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ ہمارا راستہ راہِ خدا میں استقامت، آپس میں وحدت، اس راہ پر ثابت قدمی اور اس سفر کو جاری رکھنا ہے۔
مدیر حوزہ علمیہ نے کہا: ہم علماء اور ذمہ داران سب کے سب عوام کے مقروض اور ان عزیز و شریف لوگوں کے شکر گزار ہیں۔ خصوصاً اس صوبے، اس شہر اور اس کے دیگر شہروں کے عوام جن کا ماضی روشن اور درخشاں رہا ہے۔
مجلس خبرگانِ رہبری کے اس رکن نے ماہِ شعبان کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم ماہِ مبارک شعبان میں ہیں۔ اے خدا! تو نے اس ماہ اور ماہِ رجب و رمضان میں کیسی عظمتیں اور نورانیت رکھی ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آخری عمر تک ان نورانی راتوں اور قیمتی مواقع کو عظمت دیتے رہے۔
انہوں نے کہا: عمامہ؛ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عہد و میثاق ہے۔ ہمارا عمامہ راہِ خدا میں جان نثاری کی علامت، راہِ خدا میں مجاہدت اور بندگانِ خدا، معاشرے اور عوام کی خدمت کی نشانی ہے۔ اس عمامے کی حفاظت کرنی چاہیے، اس کی حرمت کو محفوظ رکھنا چاہیے اور اس عظیم الٰہی امانت کے تقاضوں کا وفاداری سے پاس رکھنا چاہیے؛ یہی روحانیت کی ذمہ داری ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے اپنی گفتگو کے آخری حصے میں انقلابِ اسلامی کے پیغام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ دہۂ فجر میں ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ انقلابِ اسلامی نے بشریت کو ایک نیا پیغام دیا۔ ملتِ عظیمِ ایران نے ایک بڑا کام انجام دیا۔ مجھے یاد ہے 1978ء اور 1979ء کے برسوں میں جب ہم مغربی فلسفہ، سماجی اور سیاسی نظریات کا مطالعہ کرتے تھے تو سب یہی کہتے تھے کہ دین کا دور ختم ہو چکا ہے اور انسان دین سے جدا ہو گیا ہے لیکن ملتِ ایران نے اپنے انقلاب کے ذریعہ مغربی مادّی تہذیب کے مقابل ایک نیا راستہ کھول دیا۔









آپ کا تبصرہ